Hijri.cool

اسلامی وراثت کیلکولیٹر (فرائض)

قرآن و سنت کے مطابق اسلامی وراثت کے حصے حساب کریں — مفت، درست، کثیر لسانی

مرحلہ 1 — ترکے کی مالیت

مرحلہ 2 — زندہ وارثین

صرف زندہ لوگوں کو شامل کریں

شوہر/بیوی

والدین

اولاد

بیٹے
0
بیٹیاں
0

بھائی بہنیں

سگے بھائی
0
سگی بہنیں
0
باپ شریک بھائی
0
باپ شریک بہنیں
0
ماں شریک بھائی
0
ماں شریک بہنیں
0

دادا دادی / نانا نانی

Quick Examples

زکوٰۃ کیلکولیٹر

عمومی سوالات

اسلامی وراثت کیلکولیٹر کیا ہے؟
اسلامی وراثت کیلکولیٹر (فرائض کیلکولیٹر) ایک ایسا آلہ ہے جو قرآن 4:11-12 اور 4:176 کی بنیاد پر ہر وارث کا حصہ حساب کرتا ہے۔
اسلامی وراثت کا حساب کیسے ہوتا ہے؟
پہلے جنازے کے اخراجات اور قرضے ادا کیے جاتے ہیں، پھر وصیت (ایک تہائی تک)، پھر باقی ترکہ فرائض کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔
اسلام میں بنیادی وارث کون ہیں؟
بنیادی وارثین شوہر یا بیوی، والدین (باپ اور ماں)، بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ ان وارثوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔
اسلامی وراثت میں بیوی کا حصہ کیا ہے؟
بیوی کو آٹھواں حصہ (12.5%) ملتا ہے اگر اولاد ہو، اور چوتھائی (25%) اگر اولاد نہ ہو۔
کیا اسلام میں بیٹیاں وارث بنتی ہیں؟
ہاں، ایک بیٹی کو نصف ملتا ہے، دو یا زیادہ کو دو تہائی۔ بیٹوں کی موجودگی میں 2:1 کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔
اسلامی وراثت میں حجب کیا ہے؟
حجب کا مطلب ہے قریبی رشتے دار کی موجودگی میں دور کے رشتے دار کا وراثت سے محروم ہونا۔ مثلاً باپ بھائیوں کو محروم کرتا ہے۔
اسلامی وراثت میں عصبہ کیا ہے؟
عصبہ وہ وارث ہیں جو اصحاب الفروض کے بعد باقی ترکہ حاصل کرتے ہیں۔ بیٹے بنیادی عصبہ ہیں، پھر باپ۔
کیا غیر مسلم مسلمان سے وراثت پا سکتا ہے؟
جمہور علماء کے مطابق غیر مسلم مسلمان سے وراثت نہیں پا سکتا اور مسلمان غیر مسلم سے نہیں۔
اسلام میں وصیت کی زیادہ سے زیادہ حد کیا ہے؟
اسلامی قانون میں وصیت کل ترکے کے ایک تہائی تک محدود ہے۔ باقی دو تہائی فرائض کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔
وراثت تقسیم سے پہلے کیا ادا کیا جاتا ہے؟
جنازے کے اخراجات، تمام قرضوں کی ادائیگی، وصیت کا نفاذ (ایک تہائی تک)، پھر باقی ترکہ فرائض کے مطابق تقسیم۔
کیا یہ کیلکولیٹر تمام مذاہب کے لیے درست ہے؟
یہ کیلکولیٹر قرآنی بنیادی اصولوں پر عمل کرتا ہے جو چاروں مذاہب میں متفقہ ہیں۔ پیچیدہ معاملات میں اپنے مذہب کے عالم سے مشورہ کریں۔
کیا وراثت کے معاملات میں عالم سے مشورہ ضروری ہے؟
ہاں، اگرچہ یہ کیلکولیٹر درست رہنمائی فراہم کرتا ہے، سرکاری تقسیم کے لیے اہل عالم یا شرعی عدالت سے رجوع ضروری ہے۔

علم الفرائض وراثت کی تقسیم کا وہ علم ہے جو قرآن و سنت کی بنیاد پر ہر وارث کا حصہ متعین کرتا ہے۔ سورة النساء آیات 11-12 اور 176 میں ورثاء کے حصے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔